ہندکو اردو ماہیے کا ثقافتی اور فکری اشتراک

  • ڈاکٹر عبدالواجدتبسم shah abdul latif university khairpur

Abstract

Hindko is widely spoken language in Khyber Pakhtunkhwa. Like other languages of Pakistan it has its history, culture and folk literature. In folk literature Maya is the most important genre than any other. It is often sung on important cultural events. It has got its popularity throughout Hindko region. It is mostly written on romantic themes. However it is also influenced by the other impacts of the society. This article is the critical analysis of the  topics and thought of Maya in different cultures of society over the years.

References

۱۔ صوفی عبدالرشیدپروفیسر، ہزارے کے ہندکو لوک گیت (تنقیدی مضامین) ہندکو لینگویج بورڈ پاکستان، طبع اول ۲۰۱۵ء ص، ۳۵،۲۳۶۔
۲ ۔ بشیر احمد سوز پروفیسر ہزارہ میں ہندکو زبان وادب کی تاریخ ایبٹ آباد ادبیات ہزارہ ،ص۴۰
۳ ۔ ہزارہ میں ہندکو زبان وادب کی تاریخ ، ص ۴۰
۴ ۔ متاز منگلوری ڈاکٹر مختصر تاریخ زبان وادب ہندکو اسلام آباد مقتدرہ قومی زبان۲۰۱۰،ص۴۱
۵ ۔ متاز منگلوری ڈاکٹر مختصر تاریخ زبان وادب ہندکو اسلام آباد مقتدرہ قومی زبان،۲۰۱۰ ، ص۶۱
۶ ۔ ایضا ص۶۱
۷ ۔ ہزارے کے ہندکو لوک گیت، ص۴۷
۸۔ مختصرتاریخ زبان وادب ہندکو،ص۶۶
۹۔ مشہور ہے کہ ایک کسان نے اپنی ترنگ میں یہ ماہیا گایا۔ کوئی اللہ والا سن رہا تھا اس پر استغراق کی کیفیت طاری ہو گئی، کسان کو بلایا اور دوبارہ گانے کو کہا اسے کچھ نقدی انعام میں دی۔ بار بار وجد کے عالم میں کہتے جاتے تھے۔’’ چمنی وچ تیل نیئں آ۔ہائے ہمارے دلوں کی چمنیاں روشن ہونے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی ہیں ورنہ یار تو اتنا قریب ہے کہ اس سے ملنا دشوار نہیں۔ (بحوالہ ہزارہ کے ہندکو لوک گیت ص، ۴۶)
۱۰۔ انور سدید ڈاکٹر،اردو ادب کی تاریخ عزیز بک ڈپو لاہور طبع اول ۲۰۱۴۔۲۰۱۳،ص۵۳۶
۱۱۔ عارف فرہاد اردو ماہیے کے خدوخال حرف اکیڈمی راولپنڈی اگست ۲۰۰۲ ،ص ۱۷
Published
2017-08-01