فرہنگ ِ آصفیہ: ایک اجمالی جائزہ
Abstract
Farhang-e-Asifiya is the first comprehensive and authoritative Urdu dictionary, compiled by Molvi Syed Ahmad Dehlvi in 1878. A milestone in Urdu lexicography, it blends traditional linguistic methods with emerging 19th-century principles. Initially serialized under titles like Armughan-e-Dehli, it was consolidated into four volumes (1892–1901).
Despite challenges, including manuscript loss in 1912, it was revived under the Nizam of Hyderabad. Later editions were published by the Urdu Science Board (1977), National Bureau of Urdu (1987), Wasi Khokhar (2015), followed by a digital (2017) and online edition (2022).
The dictionary traces word origins, morphology, pronunciation, idioms, and proverbs, drawing from Arabic, Persian, Sanskrit, and Hindustani. It reflects both Eastern and Western lexicographic influences.
While some criticize it for omissions and colloquial inclusions, Farhang-e-Asifiya remains a foundational work in Urdu linguistics, shaping modern lexicography and guiding future research.
فرہنگِ آصفیہ اردو زبان کی پہلی جامع اور مستند لغت ہے، جسے مولوی سید احمد دہلوی نے 1878 میں مرتب کرنا شروع کیا۔ یہ اردو لغت نویسی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جو روایتی لسانی طریقوں اور انیسویں صدی کے جدید اصولوں کا امتزاج پیش کرتی ہے۔ ابتدا میں یہ ارمغانِ دہلی جیسے مختلف عنوانات سے شائع ہوئی، اور بعد ازاں 1892 سے 1901 کے دوران چار جلدوں میں مکمل کی گئی۔
اشاعت اور حفاظت کے دوران کئی مشکلات پیش آئیں، جن میں 1912 میں مسودات کا جزوی ضیاع بھی شامل ہے، مگر نظامِ حیدرآباد کی سرپرستی میں اسے دوبارہ زندہ کیا گیا۔ بعد میں اردو سائنس بورڈ (1977)، قومی بیورو برائے اردو (1987)، اور وسی کھوکھر (2015) نے اس کے نظرثانی شدہ اور کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن شائع کیے، جب کہ 2017 میں ڈیجیٹل اور 2022 میں آن لائن ایڈیشن بھی جاری ہوئے۔
یہ لغت الفاظ کی اصل، ساخت، تلفظ، محاورات اور ضرب الامثال کی وضاحت کرتی ہے، اور عربی، فارسی، سنسکرت اور ہندوی ماخذ سے استفادہ کرتی ہے۔ اس میں مشرقی و مغربی لغوی اثرات کا حسین امتزاج موجود ہے۔
اگرچہ بعض ناقدین نے اس میں بعض الفاظ کی کمی یا صرف شعری و محاوراتی زبان کے استعمال پر تنقید کی، لیکن فرہنگِ آصفیہ آج بھی اردو لسانیات کی بنیاد اور جدید لغت نویسی کی رہنما تسلیم کی جاتی ہے۔
References
فرہنگِ آصفیہ، اردو لغت نگاری، سید احمد دہلوی، تاریخی لغت، اردو لسانیات، صرف و نحو، اشتقاقیات، لغوی ارتقاء۔
All Copy Rights ® Reserved to Shah Abdul Latif University, Khairpur