اردو غزل بیانِ میر و غالب: دبستانِ دلیّ کی دروں بینی

  • سید باقر رضا زیدی لیکچرر، شعبہ ، اردو،SNAKگورنمنٹ سپیرئیر کالج، خیرپور۔
  • شاہانہ زیدی اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ ، اردو،SNAKگورنمنٹ سپیرئیر کالج، خیرپور۔

Abstract

“Dabbistan-e-Delhi” is neither a poetic nor prose masterpiece but a forewarning of changing times. Early Urdu ghazals focused on themes of love, separation, and heartbreak. However, political, economic, and social turmoil shifted this focus towards despair, failure, and loss. Over 150 years, the ghazal reflected the pain and hopelessness of Delhi’s streets, capturing the cries of longing and despair. Poets like Mir and Ghalib symbolized this era’s intense emotions, mourning the city’s decline as deeply as personal heartbreak.

“دبستان دہلی” نہ تو شاعرانہ فن کی مثال ہے اور نہ نثری انداز کی نشانی، بلکہ آنے والے وقتوں کی پیشگوئی ہے۔ ابتدائی اردو غزلوں کے موضوعات محبت، جدائی اور درد دل پر مرکوز تھے۔ لیکن سیاسی، اقتصادی اور سماجی حالات کے طوفان نے موضوعات کو مایوسی، ناکامی اور شکست کی طرف موڑ دیا۔ ڈیڑھ سو سالوں کے سفر میں غزل نے دہلی کی گلیوں کی درد بھری، بے امید داستانوں کو بیان کیا۔ میر اور غالب جیسے شاعروں نے اس دور کے گہرے جذبات کو اجاگر کیا اور شہر کی زوال کو اپنے ذاتی دکھ کی طرح محسوس کیا۔

References

Meer Taqi Meer, Mirza Ghalib, Urdu Ghazal, Dabbistan-e-Delhi.
میر تقی میر، مرزا غالب، اردو غزل، دبستانِ دہلی۔
Published
2024-06-03