امجداسلام امجد کی ڈرامہ نگاری میں مکالمے کی اہمیت
Abstract
This paper explores the artistic and intellectual role of dialogue in Amjad Islam Amjad’s dramas, placing his work within the broader evolution of Urdu drama. Originating under European influence in the 19th century, Urdu drama matured through radio and television, where dialogue became its central expressive tool. Amjad’s entry into this genre brought poetic simplicity, psychological depth, and strong moral insight. His dialogues reflect social realities and inner conflicts, with Waris (1979) marking a defining moment in Urdu television drama. Amjad elevated drama beyond entertainment, merging aesthetic elegance with cultural and social reflection.
یہ مقالہ امجد اسلام امجد کے ڈراموں میں مکالمے کی فنی و فکری اہمیت کا جائزہ لیتا ہے، اور ان کے کام کو اردو ڈرامے کی ارتقائی روایت میں رکھ کر پرکھتا ہے۔ یورپی اثرات کے تحت 19ویں صدی میں اردو ڈرامے کی بنیاد رکھی گئی، اور ریڈیو و ٹیلی وژن کے ذریعے اس میں مکالمے کو مرکزی اظہار کا ذریعہ بنایا گیا۔ امجد کی اس میدان میں آمد نے اردو ڈرامے کو شعری سادگی، نفسیاتی گہرائی، اور اخلاقی بصیرت عطا کی۔ ان کے مکالمے سماجی حقیقتوں اور اندرونی کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا بہترین نمونہ مشہور ڈراما وارث (1979) ہے۔ امجد اسلام امجد نے اردو ڈرامے کو محض تفریح سے بلند کر کے ایک ایسا فن بنا دیا جو حسنِ بیان اور سماجی شعور کو ہم آہنگ کرتا ہے۔
References
اردو ڈرامہ، مکالمہ، کردار نگاری، امجد اسلام امجد، وارث، آغا حشر کاشمیری۔
All Copy Rights ® Reserved to Shah Abdul Latif University, Khairpur