اردو مارفیمیات : ایک اجمالی جائزہ
Abstract
This paper provides a concise study of Urdu morphology, focusing on morphemics—the analysis of the smallest meaningful units in language. Tracing its origins to Goethe and later linguistic usage, it defines morphemes and classifies them into free and bound types. Bound morphemes are further divided into inflectional (grammatical changes) and derivational (new word formation). The role of affixes—prefixes, suffixes, and infixes—is also discussed. The study highlights how Urdu morphology explains word formation and transformation, offering insight into the structural makeup of the language.
یہ مقالہ اردو صرفیات کا جامع مطالعہ پیش کرتا ہے، جو لسانیات کی وہ شاخ ہے جو الفاظ کے سب سے چھوٹے بامعنی اجزاء (مورفیمز) کے تجزیے سے متعلق ہے۔ اس کا آغاز گوئٹے سے کیا گیا، جس نے یہ اصطلاح متعارف کروائی، اور بعد ازاں اسے لسانیات میں الفاظ کی ساخت کے مطالعے کے لیے اپنایا گیا۔
مقالے میں مورفیم کی تعریف کی گئی ہے اور اسے آزاد (جو خود بھی ایک لفظ بن سکتے ہیں) اور تابع مورفیمز (جو اکیلے معنٰی نہیں دے سکتے) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تابع مورفیمز کو مزید دو اقسام میں بانٹا گیا ہے:
صرفیاتی (inflectional): جو صرف گرامر جیسے جنس، عدد، زمانہ وغیرہ بدلتے ہیں۔
اشتقاقی (derivational): جو نئے الفاظ بناتے ہیں۔
مقالے میں سابقہ، لاحقہ اور درمیانی حروفِ اضافت (affixes) کے کردار کو بھی بیان کیا گیا ہے جو الفاظ کے معانی میں توسیع یا تبدیلی کرتے ہیں۔
یہ مطالعہ واضح کرتا ہے کہ اردو صرفیات کس طرح الفاظ کی ساخت، تبدیلی اور باہمی تعلق کو منظم طور پر بیان کرتی ہے، اور زبان کے ساختیاتی نظام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
References
ارفولوجی، مارفیم، سابقے، لاحقے۔
All Copy Rights ® Reserved to Shah Abdul Latif University, Khairpur