Authors are entitled to 2 free copies of the issue in which their articles appear. Article should be types in font Times New Roman, size 12. Three hard copies of the Article should be submitted in double space throughout including notes with ample margins. Pages, including those containing instructions, diagrams or tables should be numbered consecutively.
Article should also be submitted through email in the typed script and subject of the Email should be labeled with; “Article for ALMAS”. The article should confirm the Journal style outline below any figures and tables must be clearly produced ready for photographic reproduction. The source should be given below the table. Each article should be submitted with an abstract of maximum 200 words in length.

مقالہ نگاروں کے لیے ہدایات

تحقیقی مجلّہ "الماس" سال میں ایک بار شایع ہوتا ہے ، شمارے میں شامل ہر ایک مقالہ
نگارکو، شمارے کی دوعدد اعزازی کاپیاں اس کے پتے پر ارسال کی جاتی ہیں۔ الماس کے لیے مقالہ ارسال کرتے ہوئے درج ذیل اصولوں کی پیروی لازمی ہے۔
﴾ مقالہ: مقالہ نگار کی اپنی تحقیق اور واضح نتائج پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ﴾ ایسا مقالہ الماس میں اشاعت کے نہ روانہ کیا جائے جو کسی اور تحقیقی مجلّے میں بھی اشاعت کے لیےبھیجا جا چکا ہو، ایسی صورتحال میں مقالہ نگار کو چاہیے کہ اس سلسلے میں وہ واضح نشاندہی کرے۔ ﴾ مقالے کوجمیل نوری نستعلیق فونٹ سائز ۱۳ پیج سائز میں
کمپوز کرواکر بذریہ ای میل روانہ کیا جائے۔ ایک میل کے سبجیکٹ کے خانے میں یہ ضرور لکھا جائے "Article for Almas"۔ مقالے کی تین عدد ہارڈ کاپیز A4سائیز کاغذ پر ایک
ہی جانب کمپوز کروا کر بھیجی جائے۔ ﴾ مقالے میں شامل جدول و تصاویر واضح ہونی چاہئیں تاکہ ان کا عکس دوبارہ باآسانی لیا جاسکے۔ ﴾ مقالے کے صفحہ اول پردائیں طرف مقالےنگار کے نام کے بعد عنوانِ مقالہ او راس کے بعد انگریزی اور اردودونوں زبانوں میں ملخص (زیادہ سے زیادہ دوسو الفاظ پر مشتمل) ہونا چاہیئے۔ جبکہ اسی صفحے کی آخری سطر پر مقالہ نگارکا عہدہ اور انسٹی ٹیوشن یا شہر کا نام درج کیاجائے۔ ﴾ متن میں حوالوں کا اندراج یا ماخذ کا حوالہ اگر بین اسطور دیا جائے تو حوالے کے لیے مصنف کے نام کا آخری جزوہن، اشاعت اور صفحہ نمبر، جوجہاں ضروری ہے درج کیا جائے۔ اگر اسی حوالے کو دوبارہ دینا ہوتو اسی صورت میں درج کیا جائے۔ بین اسطور حوالہ درج کرتے ہوئے ایضاً اور 'تصنیف مذکور' سے گریز کیا جائے۔ مثالیں درج ذیل ہیں:۔ (نجم الاسلام ۱۹۸٨ء،٤٤) (حجازی، ۱۹۷۰ء، الف، ۳۔۵۳) یہاں الف اس لیے ہے کہ اس مصنف کا کوئی اور ماخذ بھی اسی سال چھپا ہے اور اس کا حوالہ بھی فہرستِ اسنادِ محولہ یا کتابیات میں شامل ہے۔
تمام حوالوں کی تفصیل مقالے کی آخر میں درج کی جائے اور ضرورتاً ایضاً یا تصنیف مذکور بھی تحریر کیا جائے۔ ﴾ مقالے کے آخر میں تمام ماخذ یا حوالوں کی تفصیل شامل کرتے ہوئے اس ترتیب کو ملحوظ رکھا جائے۔

کتب کا اندراج کرنا ہوتو : مصنف کانام، عنوانِ کتاب، ناشر،
سن اور صفحہ نمبر۔
مجموعہ مقالات کو اندراج کرنا ہوتو: محقق کانام، عنوانِ مضمون، جس مجلّے یا کتاب میں شامل ہے اس کا نام، مرتب کا نام، ناشر، سن ، اور صفحہ نمبر۔ اگر انٹرنیٹ، آن لائن، دستاویز کا اندراج کرنا ہوتو:۔

http://www.salu.edu.pk/pdf/09_Almas_v_18.pdf (مورخہ: ٢٥نومبر٢۰۰۷ء)